اب تو بچے بھی محفوظ نہیں

زندگی اپنی ڈگر پہ چلتی چلی جاتی ہے۔ ہم خواب دیکھتے ہیں۔ اُمیدیں باندھتے ہیں۔ مستقبل میں اپنے "من کی مُراد" کے پورا ہونے کے



آسرے جیتے چلے جاتے ہیں۔ ایک اُمید، ایک ایسی اُمید جو تادم ِ آخر پوری نہیں ہوپاتی۔ ذرا سا عرصۂ عمر پلک جھپکنے میں بیت جاتاہے اور پھر جیون کے وہ پل محض تصویروں کی صورت دیواروں پر ٹنگے رہ جاتے ہیں۔
ہمارے کچھ کرنے یا نہ کرنے سے کیا ہوگا؟ ہمارا کتنا سا حصہ ہے اِس بے رحم و پیہم عمل ِ تخلیق میں؟ رہیں تو کیا جو نہ رہیں تو کیا؟ کچھ کرپائیں تو کیا جو کچھ نہ کرپائیں تو کیا؟ ایک مدت ذات کا سانپ ڈستا رہتاہے اور پھر کسی دن اُس کا زہر ختم ہوجاتاہے۔ مٹی کی چلتی پھرتی قبر ایک رُکی ہوئی قبر میں تبدیل ہوکر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفحۂ ہستی سے نابُود ہوجاتی ہے۔
سب مان، سب زعم، تمام خشونت، تمام رعونت، یہ علم و حلم، مقام مرتبے، منصب، سراب ہائے اختیار و اعتبار۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب کتنے عارضی ہیں۔ کتنا پھیکا پھیکا ہے سب۔ پھر وہ لمحات کیوں آجاتے ہیں جن میں یہ سب بہت بھلا بھلا سا لگتاہے؟ آس ختم کیوں نہیں ہوجاتی؟ اُمیدیں کیوں بندھ جاتی ہیں؟ کبھی کبھی خیال آتاہے کہ عرفتُ ربّی بفسخ العزائم شاید کوئی طنزیہ جملہ ہے۔ خدا کو اپنی ضعیف ترین مخلوق کے عزائم فسخ کرنے میں کیا مزہ آتا ہوگا؟
عزائم، اُمیدیں، آس، تمنّائیں کمزور لوگوں کا شیوہ ہیں۔ خواب ہمیشہ سوئے ہوؤں کو دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی ہی تلاش کے سفر پہ نکلے ہوئے مسافر کو اِن خوابوں اور تمنّاؤں کے نہ ختم ہونے والے بے اماں صحراؤں میں اپنا پتہ کیسے ملیگا؟ یہاں تو شناختوں کا رش لگا ہوا ہے؟
گرو رجنیش کہتاہے، "سچی خوشی اپنی پہچان مٹا دینے سے حاصل ہوتی ہے"۔ اپنے تشخص ِ ذاتی کے اظہار کا مطلب ماسوائے اس کے اور کیا ہوسکتاہے کہ ابھی اپنی ہی شناخت کا معمہ اپنی ابتدائی سطح پر موجود ہے؟
جب سارا کچھ اپنا ہی کیا دھرا محسوس ہو تو سمجھو تقدیر اپنی چال چلنے میں پھر سے کامیاب ہوگئی۔ سمجھو! تم پھر وجود کے ہاتھ میں کھلونا بن گئے۔ کھلونا بننے سے کہیں بہتر ہے کہ دستبردار ہوجاؤ!۔ کہو! "مجھے اور حصہ نہیں لینا، میں اس رقص ِ پیہم سے تھک گیا۔ مجھے گم کردو! اُن اندھیروں میں لوٹا دو! جہاں سے میں آیا تھا۔ مجھے کچھ یاد نہیں رکھنا۔ مجھے کچھ نہیں سیکھنا، مجھے کچھ نہیں سمجھنا۔ مجھے کہیں نہیں جانا۔ مجھے کچھ نہیں بننا۔ میں اس ناٹک سے باہر ہوں۔ بس اب اور نہیں"۔
"میں اِس رقص ِ پیھم سے تھک گیا"

Comments